
دنیا میں ہر انسان کو اپنی جان و مال اور اولاد بہت عزیز ہوتے ہیں، ان کے لئے وہ دن رات محنت کرتاہے، جائز و ناجائز کی بھی تمیز نہیں کرتا، بعض اوقات تو مال و متاع کی محبت اور اس کے حصول کے لئے وہ اپنی جان تک کو قربان کردیتاہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:
’’ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُoحَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَo‘‘(التکاثر: ۱۔۲)
ترجمہ’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی فکر و دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ اسی فکر میں تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔‘‘
یہی مال و متاع اور دنیا کی حرص وطمع انسان کو اس کی انسانیت سے گراکر حیوان بلکہ اس سے بھی بد تر حالت میں لا کھڑا کر دیتی ہے۔انسان کی یہ کیفیت دراصل اس کے اپنے مقصدوجود سے ناواقفیت اور اپنے خالق و مالک سے دوری کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ جب کوئی بندہ اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اپنے وجو دسے واقف ہو کرخوداورخداشناسی اختیارکرتا ہے تو پھر یہی مال و دولت اس کے لئے دنیا و آخرت دونو ں جہاں کی کامیابی و کامرانی کاموجب بنتاہے۔جو بندہ اپنے عزیز ترین مال کو اللہ کی راہ میں، اس کے دین کی توسیع واشاعت کی خاطر، اور اُن بندوں پر جوکمزور ومحتاج ہیں خرچ کرتا ہے، تو ایسے بندوں کے لئے بشارتوں اور خوب خوب انعامات کا ذکر قرآن و